Treatment using Rinsing Water of Ablution and Morning Saliva

وضو کی کُلی کےپانی کے کمالات

مکمل وضو کرنے کے بعد اس کا تین گھونٹ پانی پئیں اور چوتھے گھونٹ کی کلی کردیں۔ طریقہ: پہلا گھونٹ پئیں تو کہیں یاشافی دوسرے گھونٹ پر یا کافی تیسرے گھونٹ پر یامعافی اور چوتھا گھونٹ پینا نہیں ہے بلکہ اس کی کلی کرنی ہے۔ چوتھی کلی کا پانی کسی برتن میں کریں۔ خاص خیال رکھیں کلی کا پانی کسی برتن میں جمع رکھیں۔ گھر کے تمام افراد آخری کلی اس میں کریں خصوصاًپانچ سال تک کے بچے مسجد کے بجائے گھر وضو کریں۔ ہمیشہ اس چوتھی کلی کے پانی کو بھروسے اور یقین کے ساتھ جمع کریں۔ اور یہ بھی سوچ لیں یہ ایسی قیمتی اور نایاب دوا ہے آپ کے پاس کروڑوں روپے ہیں پوری دنیا کا ہرکونہ چھان لیں اس دوا کو حاصل کرنے کیلئے ایک کروڑ بھی لے کر جائیں تو آپ کو نہیں ملے گی۔ کیونکہ یہ بیشمار بیماریوں کا معجزانہ علاج ہے۔ جو لوگ بیماریوں کیلئے وضو کی کلی کا پانی استعمال کریں۔ نمازوں کی پابندی کریں صدقات دیتے رہیں جو لوگ بے حد مفلس ہیں صدقات نہ دے سکیں وہ روزانہ دو نفل پڑھیں اور یہ آیت اکیس مرتبہ پڑھیں: اَعُوْذُ بِاللہِ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْجٰہِلِیْنَ (البقرہ:67)۔ گھر کے تمام افراد سے مسکرا کر بات کریں اور باہر کے افراد سے بھی کہ پیارے نبی کریمﷺ کی سنت ہے۔ آپ کے سوفیصد مسائل حل ہوں گے۔
چہرے پر کیل مہاسے دانے اور چھائیاں ہو کر چہرہ بدنما ہو چکا ہو انہیں یہی پانی استعمال کروائیں۔ چہرہ صاف اور چمکدار ہو جائے گا۔ پھنسی پھوڑوں اور خارش کے مریضوں پر بھی کلی کا پانی لگائیں۔ پھوڑے پھنسی ناسور پر لگائیں چند دنوں میں جڑ سے ختم ہوجائے گا۔ چہرے پر لگائیں رنگ صاف ہوجائے گا، چہرے پر کریم لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ دانے چھائیاں کیل مہاسے ختم ہو جائیں گے۔ چوٹ کے نشان پر بھروسے سے لگائیں۔
کم سنائی دیتا ہو تو یہی پانی کانوں میں دن میں نو مرتبہ لگائیں۔ یہ آیت بھی کثرت سے پڑھیں: فَجَعَلْنٰہُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا (الدھر۔۲)۔
جن کے آنکھوں میں خارش ہو، وہ آنکھوں کے اوپر لگائیں، خارش ختم ہو جائےگی۔
ڈاڑھ یا دانت کا درد ہو تو اسی پانی کو روئی پر پسی ہوئی کالی مرچ لگاکر اس کلی کے پانی میں ڈبو کر دانت میں جو خلا ہے اس میں رکھ لیں۔ اسی طریقہ سے کلی کے پانی کوجمع رکھیں خاص طور پر رات کو روئی دانت میں لگاکر سوئیں۔ دانتوں میں پائیریاہو، کیڑا ہو یا پَس پڑچکی ہو، روئی پر کلی کا پانی لگاکر دانتوں میں لگائیں، اللہ جل شانہ شفاءدے گا۔
کپڑے دھوتے وقت کلی کا پانی مشین میں ڈال دیں کپڑے اچھے دھلیں گے۔ پوچا لگانے سے پہلے اس بالٹی میں کلی والا پانی ڈال دیں صفائی بہت جلد ہوگی۔
کینسر کے مریض زخم پر لگائیں، ناسور بھی ٹھیک ہو جائیں گے۔ بچے کی ختنوں والی جگہ پر پانی لگادیں، ختنے بہت جلد ٹھیک ہوجائیں گے۔

صبح کے باسی لعاب سے علاج

صبح کا باسی لعاب آنکھ کیلئے ایسے ہے جیسے بچے کیلئے ماں کا دودھ یا بنجر زمین کیلئے بارش کا پانی۔ بے شمار لوگوں کی، بچوں بوڑھوں اور بڑوں کی عینک صرف اس لعاب کے عمل سے اتری ہے۔ کچھ عرصہ لگاتار اور مستقل مزاجی سےکرنا بہت ضروری ہے۔ رات کو مسواک کریں (جب مسواک تھی، دانتوں کے ڈاکٹر نہیں تھے یا کسی بڑے شہر میں ہوتا تھا اور جب سے برش اور پیسٹ آیا ہے، گلی گلی دانتوں کے ڈاکٹر اور پھر دانتوں کے بڑے بڑےہسپتال ہیں)۔ رات سوتے وقت مسواک کرکے سوجائیں صبح اٹھتے ہی منہ کا باسی لعاب انگلی سے لے کر آنکھ کے اندر لگائیں کہ آنکھ کی پتلی کو باسی لعاب لگے۔ بس ایک بار دونوں آنکھوں میں لگانا ہے اور ہر بار نیا لعاب لگانا یعنی انگلی سے منہ سے لعاب لیں پھر اسی انگلی سے دوسری آنکھ کیلئے دوبارہ لعاب لیں۔ نظر ٹھیک ہو جائے گی۔ رات کو مسواک کرکے سوئیں، اگلی صبح اپنے منہ کا باسی لعاب مندرجہ ذیل بیماریوں کے لئے استعمال کریں۔

نظر کمزور ہو، (قریب کی یا دور کی) آنکھ کی پتلی پھٹ گئی ہو یا زخمی ہوگئی ہو۔ آنکھ چھوٹی ہوگئی ہو یا کسی وجہ سے چھوٹی ہورہی ہو۔
جن کی آنکھیں چندھیاتی ہوں ان کیلئے بھی مفید ہے۔ جن کو رات کو نظر نہ آتا ہو یا دن کو نظر نہ آتا ہو۔
ایسے لوگ جو عینکیں اور آنکھوں کے سپیشلسٹ آزما آزما کر تھک گئے ہوں وہ مستقل صبح اٹھتے ہی انگلی سے آنکھ کے اندر اپنا باسی لعاب لگائیں۔
گوہانجنی یعنی آنکھ پر دانے بن جاتے ہوں صبح اٹھ کرباسی لعاب اس پر لگائیں۔ وبائی امراض مثلاً، آشوب چشم، آنکھوں کا سرخ ہوجانا، آنکھوں کا انفیکشن وغیرہ کیلئے لعاب لگانا بہت فائدہ مند ہے۔ ویلڈنگ کی وجہ سے آنکھیں سرخ ہوجاتی ہوں ایسے حضرات صبح اٹھتے ہی باسی لعاب لگائیں بہت فائدہ ہوتا ہے۔
جن کی آنکھوں کے گرد حلقے ہوں وہ آنکھوں میں لعاب لگائیں اور دوسری بار انگلی سے لعاب آنکھوں کے گرد حلقوں پر مل دیں، کچھ دیر کے بعد چہرہ دھو لیں۔ کچھ عرصہ ایسا کرنے سے نظر بھی تیز ہوگی اور حلقے بھی ختم ہوجائیں گے۔
اسی طرح داغ، چنبل، پھوڑے پھنسی، چہرے ، جسم کے کیل مہاسے، دانے ان سب کیلئے اس کے فائدے تسلیم شدہ ہیں۔ بس صرف شرط یہ ہے کہ رات مسواک کریں، صبح اٹھ کر اپنا لعاب خود لگائیں دوسرے کا لعاب نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *