Novel Corona Virus (COVID-19) – Safety and Natural Cure

Novel Corona Virus (COVID-19) – Safety and Natural Cure

 

نوول کرونا وائرس اور اس کی اقسام:۔

کورونا وائرس کی نصف درجن سے زائد اقسام دریافت ہوچکی ہیں۔ خوردبین میں دیکھنے سے اس نیم گول وائرس پر ایسے ابھار نظر آتے ہیں جو تاج یعنی کراؤن  جیسی شکل بناتے ہیں۔ لاطینی زبان میں تاج کو کورونا کہا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اسے بھی ’’کورونا وائرس ‘‘ کا نام دیا گیا۔

سال 1960ء کے عشرے میں پہلی مرتبہ دنیا نے کورونا وائرس کا نام سنا، جب یہ یورپ میں دریافت ہوا۔ اب تک اس کی مجموعی طور پر 13 تبدیل شدہ اقسام سامنےآ چکی ہیں، جنہیں کورونا وائرس کا ہی نام دیا گیا۔کورونا وائرس کی ذیلی اقسام میں سے انسانوں کیلئے چند ہلاکت خیز ہیں جن میں سیویئر ریسپریٹری سنڈروم (سارس) ، مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم (مرس) اور ناول کورونا وائرس (کووِڈ۔۱۹) شامل ہیں۔

  سیویئر ریسپریٹری سنڈروم  یعنی سارس وائرس نے ۲۰۰۰ء کی دہائی کی ابتداء میں ۸ ہزار سے زائد افراد کو متاثر کیا، جس سے ۸۰۰ کے قریب ہلاکتیں ہوئیں۔
مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم  یعنی مِرس نے ۲۰۱۱ء کی دہائی کے ابتدا میں ڈھائی ہزار کے قریب افراد کو متاثر کیا، جس سے ۸۵۰ سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔

کورونا وائرس کیسے حملہ کرتا ہے؟

یہ وائرس سانس کی اوپری نالی پر حملہ کرتے ہوئے سانس کے نچلے نظام کو متاثر کرتا ہے اورجان لیوا نمونیا یا فلو کی وجہ بن جاتا ہے۔

نئے کورونا وائرس کی ابتدائی علامات ؟

کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے 2 سے 14 روز کے اندر جو علامات نمودار ہوسکتی ہیں۔ ان میں گلے کا درد، سانس لینے میں دشواری،خشک کھانسی، تیز بخار (بعض مریضوں کو بخار نہیں ہوتا)، بے چینی، شدید سر درد، آنکھوں کی جھلی کی سوزش، قلبی تکالیف اور شدید جسمانی تھکاوٹ شامل ہیں۔ بعض کیسز میں سنگین حالت ہو جاتی ہے۔ زائد العمر افراد یا ایسے افراد جن کے اندر کوئی بیماری پہلے سے موجود ہو ان کو شدید خطره ہوتا ہے کہ ان کی بیماری بگڑ کرسنگین صورت اختیار کر لے۔اگر بخار مسلسل ہے ، کھانسی جاری ہے اور سانس لینے میں دقت محسوس ہورہی ہے تو فوری طور پر اپنے معالج یا مرکزِ صحت سے رابطہ فرمائیں۔

منتقلی کا طریقہ اور انکیوبیشن مدت:۔

نوول کورونا وائرس کی منتقلی تنفسی قطروں یا چھونے سےہوتی ہے۔ بات چیت کے دوران، کھانسنے یا چھینکنے سے یہ وائرس تقریباً ایک تا دو میڑ تک پہنچ کر تندرست انسان کی حساس لعابی جھلی میں داخل ہو کراسے بھی مریض بنا دیتا ہے۔ متاثرہ مریض کے قطرات کسی چیز پر جمع ہو جائیں اور پھر تندرست آدمی کے ہاتھ اس متعلقہ چیز پر چُھو جائیں، اور وہ ہاتھ پھر منہ،ناک،آنکھ یا دیگر اعضاء کی لعابی جھلی سے چُھو جائے تو دوسرا انسان بھی کورونا وائرس سے متاثر ہو جاتا ہے۔ یہ ناک، منہ یا آنکھوں کے ذریعے بھی انسانی جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔ اس کی انکیوبیشن مدت 1تا 12.5ایام پر محیط ہے، مگر یہ 14ایام تک طویل ہو سکتا ہے۔

نئے کورونا وائرس کی تشخیص اور علاج کیسے ممکن ہے؟

چینی محکمہ صحت نے دسمبر 2019ء میں ظاہر ہونے والے کورونا وائرس کا جینیاتی ڈرافٹ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ اب تک اس کی کوئی اینٹی وائرل دوا یا ویکسین سامنے نہیں آسکی ہے، کیونکہ نیا وائرس سامنے آیا ہے اور ماہرین اس کی ظاہری علامات سے ہی اس کا علاج کررہے ہیں۔ اگرچہ چین کا دعویٰ ہے کہ وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی 2 فیصد تعداد ہی ہلاک ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کورونا سے ڈرنے کی ضرورت نہیں البتہ ضرورت صرف احتیاط کی ہے۔
بین الاقوامی ادارہ صحت  کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کا کوئی علاج نہیں، لیکن اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اگر ایلوپیتھک طریقہ کار ناکام ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ ساری طب ناکام ہو گئی۔ اللہ کے فضل سے طب میں کورونا جیسی مہلک امراض کا بھی شافی علاج موجود ہے۔ چینیوں نے بھی جڑی بوٹیوں کے استعمال سے ہی کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پایا ہے۔
اگر کسی میں کورونا وائرس کا ٹیسٹ پوزیٹیو آجائے تو وہ اسے موت کا پروانہ سمجھنے کی بجائے، طبعیت انتہائی بگڑنے سے پہلے پہلے قدرتی طریقہ علاج کی طرف رجوع کر لیں۔ لیکن اگر آپ قدرتی طریقہ علاج کی طرف اس وقت آئیں گے جب مریض آخری سانسوں پر ہوگا، تو پھر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

پرہیز:۔

کورونا سے حفاظت اور جسم کے قدرتی حفاظتی نظام  کو مضبوط کرنے کیلئے درجِ ذیل پرہیز پر عمل کریں:۔
۔ تمام بادی، ٹھنڈی ہوا یا ٹھنڈے مشروبات اور غذائیں(ٹھنڈا پانی، سوڈے کی بوتلیں، پیک شدہ جوسز، آئس کریم، وغیرہ)
۔ تمام بیکری آئٹمز (سلانٹیاں، کُرکرے، چاکلیٹ، ٹافیاں، چپس، بسکٹ، ڈبل روٹی، وغیرہ)۔
۔ تمام پیک شدہ بازاری مشروبات یا کھانے، فوڈ سپلی منٹس ، جنک فوڈز، الکحل، مائیکروویو اون میں تیار یا گرم کی گئی غذائیں۔
۔ تمام بادی تاثیر والی سبزیاں (پھول گوبھی، بھنڈی توری، آلو، مٹر، کھیرا، اچار، چٹنی، وغیرہ)۔
۔ ائیرکنڈیشنر، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ، موبائل فون، وغیرہ کا غیر محتاط استعمال۔

 

کورونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر:۔

کورونا کی وبائی بیماری سے بچنے کیلئے درجِ ذیل احتیاط اور پرہیز انتہائی ضروری ہے:۔

۔1. جراثیم کش محلول (ہینڈ سینیٹائزر) : کسی بھی ڈراپر یا سپرے والی بوتل میں 100ملی لیٹر سادہ پانی، 100 ملی لیٹر عرق گلاب ،50 ملی لیٹر سپرٹ، 5 ملی لیٹر ڈیٹول اور دو چٹکی نمک ڈال کر بوتل بند کر کے پانچ منٹ ہلائیں۔ یہ جراثیم کُش محلول بار بار اپنے ہاتھوں، چہرے اور گردن پر استعمال میں لائیں۔
۔2. دروازوں، کھڑکیوں، کار کے ہینڈل اور چھونے والے دیگر مقامات اور اشیاء پر بار بار جراثیم کش محلول سپرے کرتے رہیں۔
۔3. کھانے سے قبل، کھانسنے اور چھینکنے کے بعد، منہ، ناک یا آنکھوں کو چھونے کے بعد، ٹوائلٹ استعمال کرنے کے بعد،عوامی تنصیبات جیسا کہ ہینڈلز یا دروازوں کی نابز، کار کے دروازوں اور سٹیرنگ وغیرہ کو چھونے کے بعد، صابن سے دھوئیں اور ہاتھوں پر جراثیم کُش محلول (سینی ٹائزر) بھی لگائیں۔
۔4. آنکھ، ناک منہ کو چھونے سے گریز کریں، ہاتھوں پر موجود نادیدہ وائرس جسم کے اندر جاسکتے ہیں۔ عمده شخصی اور ماحولیاتی حفظان صحت کا اہتمام کریں۔
۔5. کھانسی اور فلو میں مبتلا لوگ لازمی ماسک پہنیں اور ماسک پہننے اور اتارنے کے بعد جراثیم کش صابن سے دوبارہ ہاتھ دھوئیں۔
۔6. تندرست لوگ بھی وائرس سے بچنے کیلئے ماسک پہنیں۔ ڈسپوزایبل ماسک کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگائیں۔ ہجوم میں جانے سے بچیں۔
۔7. دن میں دو تین بار نیم گرم نمکین پانی سے غرارے کریں اور ہاتھ، منہ اور پاؤں بھی دھوتے رہیں، نیم گرم پانی سے نہائیں، دھوپ کھائیں۔
۔8. اے سی کا استعمال بند کر دیں،جسم کو سردی سے بچائیں، پانی ابال کر نیم گرم پیئیں، بار بار لونگ والے پانی کی بھاپ لیں۔
۔9. دن میں دو بار کلونجی، ادرک یا سونٹھ، پودینہ، دارچینی، ملٹھی، بنفشہ، عناب،چھوٹی الائچی، خاکسی کا ہلکی آگ پر قہوہ بنا کر پیا کریں۔
۔10. گھر میں کسی فرد میں بھی مرض کی علامات ظاہر ہو جائیں تو گھر کے تمام افراد کو مریض سمجھیں اور درج ذیل قدرتی علاج شروع کروا دیں۔ کام پر یا سکول میں جانے سے اجتناب برتیں اور فوری طور پر طبی مشاورت طلب کریں۔

نوول کرونا وائرس سے حفظِ ماتقدم اور قدرتی علاج:۔

کورونا  وائرس ناک کے پاراناسل ہڈیوں کے پیچھے 3 سے 4 دن تک پوشیدہ رہتا ہے اور 4 سے 5 دن کے بعد یہ پھیپھڑوں میں پہنچ تباہی کرتا ہے۔ گرم پانی گلے کیلئے تو مفید ہے، لیکن یہ سانس کے راستوں میں نہیں پہنچ سکتا، البتہ بھاپ وہاں بھی پہنچ کر وائرس کو ناکارہ کر سکتی ہے۔  یہ وائرس  درجہ ۵۰  سنٹی گریڈ پر مفلوج ہو جاتا ہے اور۶۰ درجہ سنٹی گریڈ پر اتنا کمزور ہو جاتا ہے کہ انسانی مدافعت کا نظام اسے مار دیتا ہے، جبکہ ۷۰ درجہ سنٹی گریڈ پر یہ وائرس ہلاک ہو جاتا ہے۔

۔1. دن میں دو بار گھر کے تمام افراد ایک گلاس پانی اور چھ عدد لونگ پریشر ککر میں ڈال کر سیٹی والی جگہ پر پائپ لگا کر پانچ منٹ تک ناک اور منہ سے بھاپ لیں۔ جب پانی نیم گرم ہو جائے تو پھر پانچ منٹ کیلئے اسی لونگ والے پانی سے غرارے کریں۔ ان شاءاللہ! دو دن میں کورونا سے نجات ہو جائے گی۔
۔2. کورونا کے حملے سے جسم شدید درد کرتا ہو تو مریض پر دو یا تین کمبل یا رضائی ڈال کر ہئیر ڈرائیر سے اس میں گرم ہو ا پھینکنا شروع کر دیں۔ مریض کو گرمی سے خوب پسینہ آئے گا۔ اس کے بعد جسم کو نارمل ہونے پر گرم پانی سے نہا کر کپڑے بدل لیں۔ کورونا بھاگ جائے گا۔
۔3. دن میں دو بار ایک چھوٹا پیاز چھیل کر کھانے سے ایک ہی دن میں کورونا بھاگ جائے گا۔
۔4. ایک شاخ پودینہ، کلونجی، سونف، سناء مکی (سب دو، دو چٹکی)، ادرک نصف انچ ، چھوٹی الائچی دو عدد کو چار کپ پانی میں ڈال کر ہلکی آنچ پر اُبالیں۔ تین کپ رہ جائے تو اتار کر نصف لیموں (چھلکے سمیت) نچوڑ کر، چھلکا بھی ڈال کر دم دے دیں۔ کورونا، نزلہ، زکام، کھانسی، بخار قریب نہیں آئے گا۔
۔5. روزانہ ناشتے سے پندرہ منٹ پہلے لہسن کا ایک جوا چھیل اور کاٹ کر پانی کیساتھ نگل لیں اور ایک چھوٹا پیاز کاٹ کر ہلکا نمک لگا کر چبا کر کھا لیں۔ تقریباً 20-15 منٹ پانی نہ پئیں۔ کورونا سے بھی حفاظت رہےگی اور ساتھ ساتھ دیگر امراض سے بھی نجات ہو گی۔
۔6. ایک یا دو گولی سُعالین یا سُرفی کول دن میں دو بار بعد غذا منہ میں رکھ کر چُوستے رہیں۔ خالی پیٹ نہ لیں۔
۔7. قوتِ مدافعت کیلئے تین کھجور ، تین انجیر ، ایک چٹکی کلونجی، دس دانے کشمش، صبح نہار منہ چبا کر کھائیں اور بعد میں نیم گرم پانی میں شہد ملا کر پی لیں۔
۔8. صبح و شام گاجر، چقندر، تربوز، سیب، فالسہ، جامن، انار، وغیرہ کے نیم گرم تازہ مکس جوس کے گلاس میں ایک لیموں کا جوس ملا کر مرچ سیاہ چھڑک پی لیں۔
۔9. دس چمچ چھلکا اسبغول میں ایک چمچ ہلدی ملا کر گولڈن چھلکا اسبغول تیار کر کے کسی جار میں محفوظ رکھیں۔ سوتے وقت چٹکی گولڈن چھلکا دائیں اور بائیں گال میں اور زبان کے نیچے رکھ کے سو جائیں۔ صبح اٹھ کر کلی کر لیں۔
۔10. ریشہ، کھانسی بھی ہو تو شربت توت سیاہ، شربت صدوری (ایک، ایک چھوٹی چمچ)، لعوق سپستاں (نصف چھوٹی چمچ) کو عرق گاؤزبان میں قہوہ بنا کر ایک یا دو یوم، صبح نہار منہ اور رات کو سونے سے قبل پلائیں۔ بچوں کو حسب عمر کم مقدار دیں۔
۔11. روزانہ صبح شام نصف چھوٹی چمچ خمیرہ بنفشہ میں کشتہ بارہ سنگھا ایک رتی ملا کر صبح و شام دیں۔
۔12. پھیپھڑے زیادہ متاثر ہوں تو صبح، شام سفوف کندن (آنبہ ہلدی + شیرمدار + سنکھ) بڑے چنے کے برابر مقدار تازہ فروٹ جوسز یا نیم گرم دودھ سے دیں۔
۔13. اول و آخر گیارہ بار درود ابراہیمی اور درمیان میں ایک بار سُوْرَۃ مَرْیَمْ پڑھ کر پانی پر دم کریں، وہی پانی 40 دن تک سارا دن مریض کو پلائیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مشاورت کیلئے: شکیل احمد شاہ ہاشمی

واٹس ایپ یا فون،  923125448922+ (پاکستانی وقت: شام پانچ سے رات نو بجے کے درمیان) ۔

One thought on “Novel Corona Virus (COVID-19) – Safety and Natural Cure

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *